اس نے پوچھا کہ کیا مُحبت ہے؟
میں نے بولا، خُدا مُحبت ہے

پھول، خُوشبُو ہیں رنگ چاہت کے،
آگ ، پانی ، ہوا مُحبت ہے

اُس نے تب تب نہیں سُنا مُجھ کو،
میں نے جب جب کہا،مُحبت ہے۔

جیسے موسم کی پہلی بارش ہے،
جیسے بادِ صبا مُحبت ہے

مانگتی ہے خراج میں سب کُچھ،
ایک کرب و بلا مُحبت ہے

دیکھ حرص و ہوّس کی بستی میں،
کتنی وحشت زدہ مُحبت ہے۔

گھر کی چوکھٹ پہ رات بھر رکھا،
ایک جلتا دیا مُحبت ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here